عدالتوں کی توہین اس جماعت کی نفسیات میں شامل ہے، عمران خان کے سیشن جج کیخلاف ریمارکس سے موازنہ کیا جائے تو مریم نواز کی توہین عدالت زیادہ سنگین ہے، یہ سب پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا،
مریم نواز نے آج جو کچھ کیا وہ خالصتاً توہین عدالت ہے، عدلیہ کیخلاف جو باتیں کی گئی ہیں اس سے بالکل بھی مطمئن نہیں ہوں۔ اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کے سیشن جج کیخلاف ریمارکس سے موازنہ کیا جائے تو مریم نواز کی توہین عدالت زیادہ سنگین ہے، یہ سب پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔
لطیف کھوسہ نے ن لیگ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کی توہین اس جماعت کی نفسیات میں شامل ہے۔ اس سے قبل اپنے ایک بیان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کا ایسی ہی صورتحال کیلئے ہے۔قانون سازوں کا کوئی لفظ ضائع نہیں ہوتا، الیکشن کے حوالے سے مشاورت برائے نام نہیں ہونی چاہیے۔
امید ہے سپریم کورٹ کا بینچ آئین کو نافذ کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کمیٹڈ ہے کہ آئین سے ماورا کسی کا ساتھ نہیں دیں گے۔ایک حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکومت کہتی ہے ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ ملک میں اکٹھے انتخابات ہوں تو بہترہوگا۔عمران خان کو کنٹینر سے اترنے کا کہوں گا، شہباز شریف سے بھی مل بیٹھنے کا کہوں گا۔ہم حکومتی اتحادی ضرور ہیں مگر پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ہیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مریم جلسوں میں جو تقاریر کرتی ہیں، سپریم کورٹ میں جب کیس چل رہا ہو توکیا ججز کے خلاف ایسی زبان استعمال کرنے کی اجازت ہے؟ ججز کو کہنا چاہتا ہوں پاکستان میں یہ فیصلہ کن وقت ہے، قانون سے بالا طاقتور چاہتے کہ عدلیہ انصاف سے پیچھے ہٹ جائے، ان کو کبھی آزاد عدلیہ نہیں چاہیئے،ملک کو دلدل سے نکالنے کا واحد راستہ الیکشن ہے۔

0 تبصرے