قانون سے بالا طاقتور چاہتے کہ عدلیہ انصاف سے پیچھے ہٹ جائے، ان کو کبھی آزاد عدلیہ نہیں چاہیئے،ملک کو دلدل سے نکالنے کا واحد راستہ الیکشن ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا خطاب


ججز کو کہنا چاہتا ہوں پاکستان میں یہ فیصلہ کن وقت ہے


  پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ججز کو کہنا چاہتا ہوں پاکستان میں یہ فیصلہ کن وقت ہے، قانون سے بالا طاقتور چاہتے کہ عدلیہ انصاف سے پیچھے ہٹ جائے، ان کو کبھی آزاد عدلیہ نہیں چاہیئے،ملک کو دلدل سے نکالنے کا واحد راستہ الیکشن ہے۔انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب کو نظر آجانا چاہیے کہ قوم کس طرف کھڑی ہے، 70کی دہائی میں گرفتاریاں ہوتی تھیں تو چار پانچ لوگ ہوتے تھے لیکن آج لیڈرشپ کے ساتھ لوگوں نے گرفتاریاں دیں ، میں قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم یہ سب کیوں کررہے ہیں، یہ پرامن احتجاج کا طریقہ ہے، ہم سامنے لانا چاہتے ہیں کہ جس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں،


 

میں اس طرح کا ظلم مشرف کے مارشل لاء کے دور میں بھی نہیں دیکھا، اعظم سواتی، شہبازگل ،شیخ رشید، فواد چودھری کو اٹھایا اور تشدد کیا گیا، سب پر مقدمات درج ہیں، مجھ پر 70ایف آئی آرز ہیں، الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج پر مجھ پر دہشتگردی کا پرچہ کٹ جاتا ہے، بددیانت الیکشن کمیشن ن لیگ کا حصہ بن کرہمارے خلاف مہم چلاتا ہے، فارن فنڈنگ کا کیس بناتا ہے، ایف آئی اے میرے وارنٹ نکال دیتی ہے۔



ہر کوشش کی جارہی ہے کہ عمران خان کو جیل میں ڈالو یا نااہل کرو، ہر قسم کا پریشر ڈالو، ق لیگ کو زور لگایا گیا، پریشر ڈالا کہ عمران خان کو چھوڑ دو، ن لیگ کی وزارت اعلیٰ لے لو۔ہمارے لوگوں کو کہا گیا کہ عمران خان پر کاٹا ڈال دیا گیا، آپ ن لیگ میں چلے جائیں، پی ٹی آئی کا کوئی مستقبل نہیں ہے، پرویزالٰہی اور مونس کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے دھمکیوں کے باوجود ساتھ دیا۔

 



ہم نے پرویزالٰہی کو عزت دی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کے اقدامات پی ٹی آئی کے خلاف ہے۔ مریم نوازکے دورے پر پنجاب حکومت کا پیسا استعمال کیا جارہا ہے، مریم جلسوں میں جو تقاریر کرتی ہیں، سپریم کورٹ میں جب کیس چل رہا ہو توکیا ججز کے خلاف ایسی زبان استعمال کرنے کی اجازت ہے؟ آرٹیکل 224کے تحت الیکشن 90دن سے آگے نہیں جاسکتے، 90د ن کے بعد نگران حکومت کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟ ملک کو دلدل سے نکالنے کا واحد طریقہ الیکشن ہے۔

 

جن رہنماؤں نے گرفتاریاں دی وہ کھڑے ہوئے ہیں، کل راولپنڈی میں کارکن گرفتاریاں دیں گے،سری لنکا میں انہی حالات میں عوام سڑکوں پر آگئی تھی، اگر پی ٹی آئی نہ ہو تو عوام خود سڑکوں پر نکل آئے گی،میری لاہور ہائیکورٹ میں پیشی تھی تو عوام سڑکوں پر آنے کیلئے تیار بیٹھی ہوئی ہے۔حکومت کہتی مزید مہنگائی ہوگی، عوام پوچھتی ہے کہ آپ نے 6 ماہ میں وعدے پورے کرنے کا کہا تھا۔

 

ججز کو کہنا چاہتا ہوں پاکستان میں یہ فیصلہ کن وقت ہے، قانون سے طاقتور چاہتے کہ عدلیہ انصاف سے پیچھے ہٹ جائے، نیوٹرل مارشل لاء لگاتے تو آئین توڑا جاتا ہے ، مافیا نے سپریم کورٹ پر ڈنڈوں سے حملہ کیا، نوازشریف کرکٹ بھی روندی مار کے کھیلتا تھا، کبھی کوئی کام دیانتداری سے نہیں کیا۔ ان کو کبھی آزاد عدلیہ نہیں چاہیئے۔ ملک دلدل میں پھنستا جار ہا ہے۔الیکشن سے سیاسی استحکام آئے سیاسی استحکام کے ساتھ معاشی استحکام آئے گا۔