یہ زمینیں بیچنے اور اس قسم کے اقدامات سے کچھ نہیں ہو گا لوگوں کو پاگل مت بنائیں، باہر آپ کے ڈالرز میں پیسے پڑے ہیں جس سے آپ مزید امیر ہو گئے جبکہ عوام مزید غریب ہو گئی، عمران خان کا وزیر اعظم کی پریس کانفرنس پر ردعمل
عمران خان کا کہنا ہے کہ عوام کی بھلائی یہ چاہتے ہیں تو باہر سے اپنا پیسہ واپس لے کر آئیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیر اعظم شہباز شریف کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مگرمچھ کے آنسو نہ بہائیں، امید تھی وزیر اعظم 30 سال سے چوری کیا گیا پیسہ واپس لانے کا اعلان کریں گے، وزیر اعظم اگر چوری کیے گئے پیسے کا آدھا واپس لے آئیں تو مہنگائی ختم ہو جائے گی، عوام کی بھلائی چاہتے ہیں تو باہر سے اپنا پیسہ واپس لے کر آئیں، ملک کے لیے کچھ کرنا ہے تو قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لاؤ۔
یہ زمینیں بیچنے اور اس قسم کے اقدامات سے کچھ نہیں ہو گا لوگوں کو پاگل مت بنائیں، باہر آپ کے ڈالرز میں پیسے پڑے ہیں جس سے آپ مزید امیر ہو گئے جبکہ عوام مزید غریب ہو گئی۔
آج جو پریس کانفرنس کی گئی وہ اس لیے تھی کہ عوام کو تیار کیا جائے کہ اب مزید مہنگائی آئے گی۔ شہباز شریف نے لمبی تقریر کی جس سے یہ سامنے آیا کہ مزید مہنگائی ہونے والی ہے، لوگ مہنگائی کیلئے تیار ہو جائیں، شہباز، زرداری اور بیرونی طاقتوں نے مل کر میری حکومت گرائی، تحریک انصاف کے دور سے آج تین گنا زیادہ مہنگائی ہے، آپ نے 10 ماہ میں جو ملک کے ساتھ کیا وہ دشمن بھی نہیں کرتا۔
عمران خان نے کہا کہ ہمارے دور میں عالمی مارکیٹ میں تیل 115 ڈالرز تھا جو اب کم ہو کر 85 ڈالرز ہو چکا، پھر مہنگائی کیوں ہے؟ ہمارے دور کے مقابلے میں پام آئل کی قیمت میں 50 فیصد کمی ہو چکی پھر بھی گھی اور کوکنگ آئل کیوں مہنگے ہو گئے؟ موجودہ حکومت میں ڈالر 100 روپے مہنگا ہو چکا۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عوام سے قربانی مانگنے والوں نے اپنے 1100ارب کے کیسز معاف کرائے، ہمارے دور میں 450 ارب روپے ریکور کیے گئے، جبکہ انہوں نے حکومت میں آتے ہی 1100 ارب معاف کروا لیے ہماری حکومت رہتی تو ہم نے مزید 1100 ارب روپے ریکور کروا لینے تھے، مستعفی ہونے والے نیب کے چئیرمین سے پوچھا جائے کہ کیسے حکومت میں شامل لوگوں کو 1100 ارب روپے معاف کروانے دیے گئے۔
عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف دیکھ لو قوم آج انقلاب کے لیے تیار ہے، میں نے دو سو لوگ تیار کئے یہاں ہزاروں لوگ تیار ہو گئے، جیل بھرو تحریک کا آغاز ہی اسی لیے کیا کہ خوف کا بت توڑنا تھا، ہ قوم انقلاب اور سڑکوں پر نکلنے کیلئے تیار ہے،عوام نے فیصلہ کر لیا، میرے اوپر 70 ایف آئی آرز کاٹی گئیں، جتنی مرضی کرلو کوئی فکر نہیں ہے، اگر انہوں نے 90 دن کے اندر الیکشن نہ کرائے تو قوم سڑکوں پر نکلے گی۔

0 تبصرے